سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ الْإِقَامَةِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِيهَا باب: اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمِ الأَوْدِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الأَسَدِيُّ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أَذَّنَ بِلالٌ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ ، فَرَقَى بِلالٌ وَهُوَ يَقُولُ : لَيْتَ بِلالا ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ ، وَابْتَلَّ مِنْ نَضْحِ دَمِ جَبِينِهِ يُرَدِّدُهَا حَتَّى صَعِدَ ، ثُمَّ قَالَ : أَلا إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ أَذَّنَ حِينَ أَضَاءَ الْفَجْرُ " . مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الأَسَدِيُّ ضَعِيفٌ جِدًّا.حسن بصری، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا وہ دوبارہ اس کو دہرائیں، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ مینار پر چڑھے اور وہ یہ کہہ رہے تھے: ”کاش بلال کی ماں اسے روتی۔“ اور ان کی پیشانی عرق آلود ہو گئی۔ وہ اس جملے کو دہراتے ہوئے مینار پر چڑھے اور یہ کہا: ”خبردار! بندہ سو گیا تھا۔“ انہوں نے یہ جملہ دو مرتبہ دہرایا، پھر جب صبح صادق ہو گئی تو انہوں نے اذان دی۔ اس روایت کا راوی محمد بن قاسم اسدی نہایت ضعیف ہے۔