حدیث نمبر: 959
نا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ السَّمِيعِ الْهَاشِمِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ ، ثنا أبِي ، نا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ بِلالا أَذَّنَ قَبْلَ الْفَجْرِ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَعُودَ فَيُنَادِيَ : إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ " ، فَفَعَلَ ، وَقَالَ : لَيْتَ بِلالا لَمْ تَلِدْهُ أُمُّهُ ، وَابْتَلَّ مِنْ نَضْحِ دَمِ جَبِينِهِ . تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو يُوسُفَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَغَيْرِهِ يُرْسِلُهُ عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے صبح صادق ہونے سے پہلے ہی اذان دے دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا: واپس جا کر یہ اعلان کریں: ”بیشک بندہ سو گیا تھا۔“ تو انہوں نے ایسا ہی کیا اور یہ کہا: ”کاش بلال کی ماں نے اسے جنم نہ دیا ہوتا۔“ اور ان کی پیشانی عرق آلود ہو گئی۔ اس روایت کو نقل کرنے میں ابویوسف نامی راوی منفرد ہیں۔ دیگر راویوں نے اسے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے جو قتادہ سے منقول ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 959
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 959، 960، 961، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 6667»
«قال الدارقطني: تفرد به أبو يوسف وأرسله غيره والمرسل أصح ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 318)»