سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ الْإِقَامَةِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِيهَا باب: اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
حدیث نمبر: 958
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ ، ثنا عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ بِلالا أَذَّنَ قَبْلَ الْفَجْرِ ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ : إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ " ، فَوَجَدَ بِلالٌ وَجْدًا شَدِيدًا . وَهِمَ فِيهِ عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ ، وَالصَّوَابُ قَدْ تَقَدَّمَ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنْ مُؤَذِّنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَوْلَهُ.محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے صبح صادق ہونے سے پہلے ہی اذان دے دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے آپ نے انہیں یہ حکم دیا: وہ یہ اعلان کریں: ”بیشک بندہ سو گیا تھا۔“ تو اس پر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بہت افسوس ہوا۔ اس روایت میں عامر نامی راوی کو وہم ہوا ہے، صحیح روایت وہ ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے وہ ابن حرب نامی راوی کے حوالے سے نافع کے حوالے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے موذن کے بارے میں منقول ہے۔