سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ الْإِقَامَةِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِيهَا باب: اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
حدیث نمبر: 957
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، ثنا هُشَيْمٌ ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، " أَنَّ بِلالا أَذَّنَ لَيْلَةً بِسَوَادٍ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى مَقَامِهِ ، فَيُنَادِي : إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ " ، فَرَجَعَ وَهُوَ يَقُولُ : لَيْتَ بِلالا لَمْ تَلِدْهُ أُمُّهُ ، وَابْتَلَّ مِنْ نَضْحِ دَمِ جَبِينِهِ .محمد محی الدین
حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے رات کے وقت ہی اذان دے دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا: وہ اپنی جگہ واپس جا کر بلند آواز میں یہ اعلان کریں: ”خبردار! بیشک بندہ سو گیا تھا (یعنی اس سے غلطی ہو گئی)۔“ تو وہ واپس گئے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: ”کاش بلال کی ماں نے اسے جنم نہ دیا ہوتا۔“