سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ الْإِقَامَةِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِيهَا باب: اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
حدیث نمبر: 954
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ بِلالا أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَ فَيُنَادِي : أَلا إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ " ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فَرَجَعَ فَنَادَى : أَلا إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ . تَابَعَهُ سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيٍّ ، وَكَانَ ضَعِيفًا ، عَنْ أَيُّوبَ .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے صبح صادق ہونے سے پہلے اذان دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ حکم دیا: وہ واپس جا کر تین مرتبہ یہ اعلان کریں: ”خبردار! بندہ سو گیا تھا (یعنی اس سے غلطی ہوئی ہے)۔“ وہ واپس گئے اور بلند آواز میں یہ کہا: ”خبردار! بندہ سو گیا تھا۔“ یہ کلمات انہوں نے تین مرتبہ کہے۔ ایک اور راوی نے اس کی متابعت کی ہے، تاہم یہ راوی ضعیف ہے۔