سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ الْإِقَامَةِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِيهَا باب: اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ يُونُسَ ، ثنا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ ، يَعْنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ رَجُلا نزل مِنَ السَّمَاءِ عَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ نزل عَلَى جِذْمِ حَائِطٍ مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَأَذَّنَ مَثْنَى مَثْنَى ثُمَّ جَلَسَ ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مَثْنَى مَثْنَى ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ : عَلَى نَحْوِ مِنْ أَذَانِنَا الْيَوْمَ ، قَالَ : " عَلِّمْهَا بِلالا " ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَدْ رَأَيْتُ مثل الَّذِي رَأَى وَلَكِنَّهُ سَبَقَنِي .عبدالرحمن بن ابولیلی بیان کرتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے: ایک انصاری شخص عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص آسمان سے نازل ہوا اس نے دو چادریں اوڑھی ہوئی تھیں۔ وہ مدینہ منورہ کی ایک دیوار پر اترا۔ اس نے اذان کے کلمات دو مرتبہ کہے پھر وہ بیٹھ گیا پھر وہ کھڑا ہو گیا پھر اس نے وہ کلمات دو دو مرتبہ کہے۔“ ابوبکر بن عیاش نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: یہ اسی کی مانند ہے جس طرح آج کل اذان دی جاتی ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم یہ بلال کو سکھا دو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”میں نے بھی اسی طرح کا خواب دیکھا ہے جس طرح اس نے دیکھا ہے لیکن یہ مجھ سے سبقت لے گیا ہے۔“