سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ الْإِقَامَةِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِيهَا باب: اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
حدیث نمبر: 930
حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجَهْمِ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ الْقَنْطَرِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَذَّنَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ، وَكُتِبَ لَهُ بِتَأْذِينِهِ فِي كُلِّ مَرَّةٍ سِتُّونَ حَسَنَةً ، وَبِإِقَامَتِهِ ثَلاثُونَ حَسَنَةً " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص بارہ برس تک اذان دیتا رہے گا، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی اور اس کے اذان دینے کی وجہ سے، ہر اذان کے بدلے ساٹھ نیکیاں لکھی جائیں گی اور ہر اقامت کے بدلے تیس نیکیاں لکھی جائیں گی۔“