سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ الْإِقَامَةِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِيهَا باب: اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
حدیث نمبر: 917
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي يَحْيَى الْكَعْبِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنٌ يُطْرِبُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الأَذَانُ سَمْحٌ سَهْلٌ فَإِنْ كَانَ أَذَانُكَ سَهْلا سَمْحًا وَإِلا فَلا تُؤَذِّنْ " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک موذن تھا جو تیزی سے اذان دیتا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اذان نرمی اور آسانی کا راستہ ہے۔ اگر تم نے نرمی اور آسانی کے ساتھ اذان دینی ہے تو ٹھیک، ورنہ نہ دیا کرو۔“