سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ الْإِقَامَةِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِيهَا باب: اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ يَتَحَيَّنُونَ الصَّلاةَ وَلَيْسَ يُنَادَى بِهَا وَكَلَّمُوهُ يَوْمًا فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مثل نَاقُوسِ النَّصَارَى ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بُوقًا مثل بُوقِ الْيَهُودِ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَلا تَبْعَثُوا رِجَالا يُنَادُونَ بِالصَّلاةِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بِلالُ قُمْ فَأَذِّنْ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب مسلمان مدینہ منورہ آئے تو نماز کے وقت اکٹھے ہو جایا کرتے تھے۔ انہیں اس کے لیے (باقاعدہ طور پر) بلایا نہیں جاتا تھا۔ ایک دن انہوں نے اس بارے میں بات چیت کی تو کسی نے کہا: تم لوگ عیسائیوں کے ناقوس کی طرح ناقوس بجایا کرو۔ کچھ نے کہا: یہودیوں کی طرح بوق بجایا کرو۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: ”تم لوگ کچھ لوگوں کو بھیجتے کیوں نہیں؟ تاکہ وہ نماز کے لیے اعلان کر دیا کریں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے بلال! تم اٹھو اور اذان دو۔“