سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ تَحْرِيمِ دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ إِذَا يَشْهَدُوا بِالشَّهَادَتَيْنِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ باب: : خون اور اموال کا قابل احترام ہونا جب لوگ دونوں شہادتوں کی گواہی دیں اور نماز ادا کریں اور زکوۃ ادا کریں
حدیث نمبر: 898
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنِي حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّ الإِسْلامِ ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں۔ جب وہ ایسا کر لیں گے تو وہ اپنے خون اور اپنے اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ اسلام کے حق کا حکم مختلف ہے اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہو گا۔“