سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ تَحْرِيمِ دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ إِذَا يَشْهَدُوا بِالشَّهَادَتَيْنِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ باب: : خون اور اموال کا قابل احترام ہونا جب لوگ دونوں شہادتوں کی گواہی دیں اور نماز ادا کریں اور زکوۃ ادا کریں
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَصَلُّوا صَلاتَنَا وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا وَأَكَلُوا ذَبَائِحَنَا ؛ حُرِّمَتْ عَلَيْنَا أَمْوَالُهُمْ وَدِمَاؤُهُمْ إِلا بِحَقِّهَا ، وَلَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِ " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں مشرکین کے ساتھ اس وقت تک لڑائی کرتا رہوں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ جب وہ اس بات کی گواہی دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، وہ ہماری طرح نماز ادا کریں اور ہمارے قبلہ کی طرف رخ بھی کریں، ہمارے ذبائح کو کھائیں تو ان کے اموال اور خون ہم پر حرام ہو جائیں گے۔ البتہ ان کا حق برقرار رہے گا: ان کو ہر وہ چیز ملے گی جو مسلمان کو حاصل ہو گی۔ ان پر ہر وہ چیز لازم ہو گی جو مسلمان پر لازم ہوتی ہے۔“