سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ الْأَمْرِ بِتَعْلِيمِ الصَّلَوَاتِ وَالضَّرْبِ عَلَيْهَا وَحَدِّ الْعَوْرَةِ الَّتِي يَجِبُ سَتْرُهَا باب: : نماز کی تعلیم دینے کا حکم اس (کو چھوڑنے کی وجہ سے ) مارنے کا حکم اور ستر کا حکم جس کا چھپانا لازم ہے
حدیث نمبر: 888
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حَبِيبٍ الشَّيْلَمَانِيُّ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، نا سَوَّارُ أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُرُوا صِبْيَانَكُمْ بِالصَّلاةِ فِي سَبْعِ سِنِينَ وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا فِي عَشْرٍ ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ ، وَإِذَا زَوَّجَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ فَلا يَرَيْنَ مَا بَيْنَ رُكْبَتِهِ وَسُرَّتِهِ ، فَإِنَّمَا بَيْنَ سُرَّتِهِ وَرُكْبَتِهِ مِنْ عَوْرَتِهِ " .محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سات سال تک کی عمر میں اپنے بچوں کو نماز پڑھنے کا حکم دو اور دس سال کی عمر میں ان کی پٹائی کرو اور ان کے بستر الگ کر دو۔ جب کوئی شخص اپنے غلام یا ملازم کی شادی کر دے تو وہ گھٹنے اور ناف کے درمیان والے حصے کی طرف نہ دیکھے کیونکہ اس کا ناف اور گھٹنے کا درمیانی حصہ ستر ہے۔“