سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ مَا رُوِيَ فِي لَمْسِ الْقُبُلِ وَالدُّبُرِ وَالذَّكَرِ وَالْحُكْمِ فِي ذَلِكَ باب: : (عورت کا اپنی) اگلی یا پچھلی شرمگاہ یا مرد کا اپنی شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے اور اس کا حکم
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْكَ " . قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ : سَأَلْتُ أَبِي ، وَأَبَا زُرْعَةَ عَنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ هَذَا ، فَقَالا : قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ لَيْسَ مِمَّنْ يَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ وَوَهَّنَاهُ ، وَلَمْ يُثْبِتَاهُ.سیدنا قیس بن طلق رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ سے شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہارے جسم کا حصہ ہے۔“ ابن ابی حاتم بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد (ابوحاتم) اور ابوشیخ زرعہ سے محمد بن جابر کی نقل کردہ اس روایت کے بارے میں دریافت کیا، تو دونوں نے جواب دیا: ”قیس بن طلق ایسے نہیں ہیں، جن کو مستند تسلیم کیا جائے۔“ تو ان دونوں حضرات نے اس راوی کو کمزور ظاہر کیا اور اسے مستند قرار نہیں دیا۔