سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ مَا رُوِيَ فِي لَمْسِ الْقُبُلِ وَالدُّبُرِ وَالذَّكَرِ وَالْحُكْمِ فِي ذَلِكَ باب: (عورت کا اپنی) اگلی یا پچھلی شرمگاہ یا مرد کا اپنی شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے اور اس کا حکم
حدیث نمبر: 540
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يُونُسَ بْنِ يَاسِينَ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُؤَسِّسُونَ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : وَهُمْ يَنْقُلُونَ الْحِجَارَةَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلا نَنْقُلُ كَمَا يَنْقُلُونَ ؟ قَالَ : " لا وَلَكِنِ اخْلِطْ لَهُمُ الطِّينَ يَا أَخَا الْيَمَامَةِ ، فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ " . فَجَعَلْتُ أَخْلِطُ لَهُمْ وَيَنْقِلُونَهُ .محمد محی الدین
سیدنا قیس بن طلق رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ لوگ اس وقت مدینہ منورہ کی مسجد بنانے میں مصروف تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: لوگ اس وقت پتھر منتقل کر رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا میں بھی اسی طرح نہ کروں، جیسے یہ لوگ (پتھر) منتقل کر رہے ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں! بلکہ تم انہیں گارا بنا دو، اے یمامہ کے رہنے والو! کیونکہ تم اس میں ماہر ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے انہیں بنا دیا اور وہ لوگ اسے لے کر جانے لگے۔