سنن الدارقطني
كتاب النوادر— نادر اور کم یاب مسائل
باب النَّوَادِرُ باب: نادر طور پر پیش آنے والے مسائل
نَا عَلِيٌّ ، نَا أَحْمَدُ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا وَرْقَاءُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ ، وَكَانَتْ خَالَةَ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ . نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السَّهْمِيُّ ، نَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُبَايِعُهُ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " نُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ لا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلا نَسْرِقَ وَلا نَزْنِيَ ، وَلا نَقْتُلَ أَوْلادَنَا ، وَلا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا ، وَلا نَعْصِيَكَ فِي مَعْرُوفٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ ، قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا ، هَلُمَّ نُبَايِعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لا أُصَافِحُ النِّسَاءَ ، إِنَّ قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ ، أَوْ مثل قَوْلِي لامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ " .سیدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ بیعت کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ہم نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ہم آپ کے دست اقدس پر اس بات کی بیعت کرتی ہیں کہ ہم کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہرائیں گی، ہم چوری نہیں کریں گی، ہم زنا نہیں کریں گی اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی اور اپنی طرف سے بنا کر کسی پر جھوٹا الزام نہیں لگائیں گی اور کسی بھی نیکی کے کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس حد تک، جس کی تمہیں استطاعت ہو اور جس کی تمہیں طاقت ہو۔“ ہم نے عرض کی: ”اللہ اور اس کے رسول ہمارے بارے میں ہماری اپنی ذات سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں، یا رسول اللہ! اپنا دست اقدس آگے کیجیے، تاکہ ہم آپ کی بیعت کر لیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں خواتین کے ساتھ مصافحہ نہیں کرتا، ایک سو خواتین کے ساتھ بھی میں اس طرح کلام کرتا ہوں، جس طرح ایک عورت کے ساتھ کرتا ہوں (یہاں پر ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔“