سنن الدارقطني
كتاب النوادر— نادر اور کم یاب مسائل
باب النَّوَادِرُ باب: نادر طور پر پیش آنے والے مسائل
حدیث نمبر: 4281
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْجَمَالُ ، نَا هَاشِمُ بْنُ الْجُنَيْدِ أَبُو صَالِحٍ ، نَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، نَا مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ ، حِينَ حَدَّثَ فِيهِمُ الْمُوَلَّدُونَ أَبْنَاءُ سَبَايَا الأُمَمِ ، فَوَضَعُوا الرَّأْيَ فَضَلُّوا " .محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بنی اسرائیل اس وقت ہلاکت کا شکار ہو گئے، جب قیدی عورتوں کے بچوں نے ان میں نئی باتیں پیدا کرنی شروع کر دیں، ان لوگوں نے اپنی رائے پیش کرنا شروع کی اور وہ گمراہی کا شکار ہو گئے۔“