سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ مَا رُوِيَ فِي الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ باب: : غسل جنابت میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 414
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، نا أَبُو حَنِيفَةَ ، عَنِ ابْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ عَجْرَدٍ ، " فِي جُنُبٍ نَسِيَ الْمَضْمَضَةَ وَالاسْتِنْشَاقَ ، قَالَتْ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : يُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ وَيُعِيدُ الصَّلاةَ " .محمد محی الدین
عائشہ بنت عجرد نے جنبی شخص کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے: ”جو (غسل کرتے ہوئے) کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھول جاتا ہے۔“ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بات فرمائی ہے: ”وہ کلی کرے گا، ناک میں پانی ڈالے گا اور دوبارہ نماز ادا کرے گا۔“