حدیث نمبر: 411
ثنا ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا : نا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ عَجْرَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " إِنْ كَانَ مِنْ جَنَابَةٍ أَعَادَ الْمَضْمَضَةَ وَالاسْتِنْشَاقَ وَاسْتَأْنَفَ الصَّلاةَ " .وَقَالَ ابْنُ عَرَفَةَ : " إِذَا أُنْسِيَ الْمَضْمَضَةَ وَالاسْتِنْشَاقَ إِنْ كَانَ مِنْ جَنَابَةٍ انْصَرَفَ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَأَعَادَ الصَّلاةَ " . قَالَ الشَّيْخُ الْحَافِظُ : لَيْسَ لِعَائِشَةَ بِنْتِ عَجْرَدٍ إِلا هَذَا الْحَدِيثُ ، عَائِشَةُ بِنْتُ عَجْرَدٍ لا تَقُومُ بِهَا حُجَّةٌ.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”اگر غسل جنابت میں (آدمی کلی کرتا ہو اور ناک میں پانی ڈالنا بھول جائے) تو وہ دوبارہ کلی کرے گا اور ناک میں پانی ڈالے گا اور جہاں سے نماز چھوڑی تھی، وہیں سے پڑھ لے گا۔“ ابن عرفہ بیان کرتے ہیں: ”اگر آدمی غسل جنابت میں کلی کرنا ہو اور ناک میں پانی ڈالنا بھول جائے، اور (نماز کے دوران اسے یاد آئے) تو وہ نماز چھوڑ کر جائے گا، کلی کرے گا، ناک میں پانی ڈالے گا اور نئے سرے سے نماز پڑھے گا۔“ امام دارقطنی بیان کرتے ہیں: عائشہ بنت عجرد نامی راوی خاتون سے صرف یہی روایت منقول ہے اور ان کی نقل کردہ روایت مستند قرار نہیں دی جا سکتی۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 411
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 865، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 411، 412، 413، 414، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 2071»
«قال ابن رجب: عائشة بنت عجرد قيل إنها غير معروفة فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: 271/1»