سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ مَا رُوِيَ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ» باب: : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان منقول ہے : ” دونوں کان سر کا حصہ ہیں “
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ ، نا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، نا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ ، نا أَبُو الْوَلِيدِ ، ويَحْيَى بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالُوا : نا زَائِدَةُ ، نا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ خَيْرٍ ، قَالَ : جَلَسَ عَلِيُّ بَعْدَمَا صَلَّى الْفَجْرَ فِي الرَّحَبِ ، ثُمَّ قَالَ لِغُلامِهِ : ائْتِنِي بِطَهُورٍ ، فَأَتَاهُ الْغُلامُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ ، وَطَسْتٍ وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَيْهِ ، فَأَخَذَ بِيَمِينِهِ الإِنَاءَ فَأَكْفَأَهُ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الإِنَاءَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الإِنَاءَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ فَعَلَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ : كُلُّ ذَلِكَ لا يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا الْمَاءُ ، ثُمَّ رَفَعَهَا بِمَا حَمَلَتْ مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا مَرَّةً ، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُمْنَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ فَغَرَفَ بِكَفِّهِ فَشَرِبَ ، ثُمَّ قَالَ : " هَذَا طَهُورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طَهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا طُهُورُهُ " . وَقَدْ زَادَ بَعْضُهُمُ الْكَلِمَةَ ، وَالشَّيْءَ وَالْمَعْنَى قَرِيبٌ.عبدخیر بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فجر کی نماز پڑھنے کے بعد صحن میں آ کر بیٹھے، پھر آپ نے اپنے خادم سے فرمایا: ”میرے لیے وضو کا پانی لے کر آؤ!“ خادم ایک برتن میں آپ کے پاس پانی لے کر آیا، ساتھ ایک طشت لے آیا، ہم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ رہے تھے، انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ سے برتن کو پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی انڈیلا، پھر دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر آپ نے دائیں ہاتھ کے ذریعے برتن کو پکڑا اور اپنے بائیں ہاتھ پر پانی انڈیلا، پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا، ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا۔ عبدخیر نامی راوی بیان کرتے ہیں: ہر مرتبہ ہاتھ دھوتے ہوئے انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں داخل نہیں کیا، یہاں تک کہ دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھو لیا تو پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور (اس کے ذریعے پانی لے کر) کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، اپنے بائیں ہاتھ کے ذریعے ناک صاف کیا، ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا، پھر انہوں نے اپنا دایاں بازو کہنی تک تین مرتبہ دھویا، پھر انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس میں پانی بھر لیا، پھر اس میں جتنا بھی پانی تھا، اس پانی سمیت ہاتھ کو بلند کیا اور بائیں ہاتھ کے ذریعے اس ہاتھ کا مسح کیا اور پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کے ذریعے اپنے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا، پھر انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے اپنے بائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی ڈالا اور اپنے بائیں پاؤں کے ذریعے تین مرتبہ اس کو دھویا، پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اپنی چلو میں تھوڑا سا پانی لے کر اسے پی لیا، پھر یہ ارشاد فرمایا: ”یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ ہے، جو شخص اس بات کو پسند کرے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے طریقے کو دیکھ سکے تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔“ بعض راویوں نے اس کے بعض کلمات میں کمی و بیشی کی ہے، لیکن ان کا مفہوم قریب قریب ہے۔