سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا : نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ " فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ : إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ ، فَلا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ ، وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى ، مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، لا تُنْفِقُ الْمَرْأَةُ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهَا إِلا بِإِذْنِ زَوْجِهَا ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلا الطَّعَامُ ؟ ، قَالَ : ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا، ثُمَّ قَالَ : الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ ، وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ ، وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ ، وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ " .سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے خطبے کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ نے ہر حق دار کا حق مقرر کیا ہے، اس لیے وارث کے لیے وصیت نہیں کی جا سکتی، بچہ صاحب فراش کو ملے گا، اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی اور ان لوگوں کا حساب اللہ کے ذمے ہو گا، جو شخص اپنے حقیقی باپ کے علاوہ یا اپنے آزاد کرنے والے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے، تو اس شخص پر اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی طرف سے قیامت کے دن تک لعنت ہوتی رہے گی، عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر میں سے کچھ خرچ نہ کرے۔“ عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ! اناج بھی نہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ہمارا سب سے اہم مال ہے۔“ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”عارضی طور پر استعمال کے لیے کی جانے والی چیز واپس کی جائے گی اور عطیے کے طور پر (عارضی استعمال کے لیے جو چیز دی گئی ہو) وہ بھی واپس کی جائے گی، فرض ادا کیا جائے گا اور نگران شخص تاوان ادا کرنے کا پابند ہو گا۔“