❮
❯
حدیث نمبر: 2961
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَبِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا ضَمَانَ عَلَى مُؤْتَمَنٍ " .
محمد محی الدین

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کے پاس امانت رکھوائی گئی ہو، اس پر تاوان لازم نہیں ہو گا۔“

ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ جَعْفَرٍ الْكَوْكَبِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْتَعِيرِ غَيْرِ الْمُغِلِّ ضَمَانٌ ، وَلا عَلَى الْمُسْتَوْدِعِ غَيْرِ الْمُغِلِّ ضَمَانٌ " ، عَمْرٌو ، وَعُبَيْدَةُ ، ضَعِيفَانِ ، وَإِنَّمَا يُرْوَى عَنْ شُرَيْحٍ الْقَاضِي ، غَيْرُ مَرْفُوعٍ.
محمد محی الدین

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عارضی طور پر استعمال کے لیے لینے والا شخص تاوان ادا کرنے کا پابند نہیں ہو گا، البتہ اگر کوئی شخص دھوکے کے ساتھ اس کا استعمال کرے (تو اس پر تاوان کی ادائیگی لازم ہو گی)، اسی طرح جس شخص کے پاس ودیعت کے طور پر کوئی چیز رکھوائی گئی ہو، وہ بھی تاوان ادا کرنے کا پابند ہو گا، لیکن اگر وہ دھوکہ دیتا ہے (تو اس پر بھی تاوان کی ادائیگی لازم ہو گی)۔“

ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، نَا ابْنُ جَابِرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ تَفْسِيرِ : " الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ ، قَالَ : أَسْلَمَ قَوْمٌ وَفِي أَيْدِيهِمْ عَوَارِي مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالُوا : قَدْ أَحْرَزَ لَنَا الإِسْلامُ مَا بِأَيْدِينَا مِنْ عَوَارِي الْمُشْرِكِينَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : الإِسْلامُ لا يُحْرِزُ لَكُمْ مَا لَيْسَ لَكُمُ ، الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ " ، فَأَدَّى الْقَوْمُ مَا بِأَيْدِيهِمْ مِنْ تِلْكَ الْعَوَارِي ، هَذَا مُرْسَلٌ وَلا تَقُومُ بِهِ حَجَّةٌ.
محمد محی الدین

عطاء بن ابی رباح نے روایت کے یہ الفاظ (عارضی طور پر لی گئی چیز واپس کی جائے گی) کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بات بتائی ہے کہ ایک قبیلے کے لوگوں نے اسلام قبول کیا، ان کے پاس کچھ ایسی چیزیں تھیں، جو مشرکین سے انہوں نے عارضی استعمال کے لیے لی تھیں، ان لوگوں نے یہ کہا: اسلام قبول کرنے کی وجہ سے مشرکین کی یہ اشیاء، جو ہمارے پاس ہیں یا ہمارے پاس آ گئی ہیں، جب اس بات کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اسلام تمہیں ایسی کسی چیز پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا، جو تمہاری ملکیت نہ ہو، عارضی استعمال کے لیے لی گئی چیز واپس کی جائے گی۔“ تو پھر ان لوگوں نے (مشرکین کی) وہ چیزیں انہیں واپس کر دیں۔

ثنا ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا رَوْحٌ ، نَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ شُرَيْحًا ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْتَعِيرِ غَيْرِ الْمُغِلِّ ، وَلا عَلَى الْمُسْتَوْدِعِ غَيْرِ الْمُغِلِّ ضَمَانٌ " .
محمد محی الدین

قاضی شریح بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے عاریت کے طور پر چیز لی ہو اور جس شخص کے پاس ودیعت کے طور پر چیز رکھوائی گئی ہو، اس پر تاوان کی ادائیگی لازم نہیں ہو گی، البتہ اگر وہ دھوکے دینے والے ہوں (تو حکم مختلف ہو گا)۔

ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَابْنُ مَخْلَدٍ ، وَجَمَاعَةٌ ، قَالُوا : نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا رِبْعِيُّ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : جَاءَ بِي أَبِي يَحْمِلُنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اشْهَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ مِنْ مَالِي كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مثل الَّذِي نَحَلْتَ النُّعْمَانَ ؟ ، قَالَ : لا ، قَالَ : فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي ، أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً ؟ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَلا إِذَنْ ، وَقَالَ الْمَحَامِلِيُّ : أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ " .
محمد محی الدین

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے اٹھا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور بولے: ”آپ اس بات پر گواہ بن جائیں کہ میں نے اپنے مال میں سے اتنا مال نعمان کو دے دیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو عطیے کے طور پر اتنی ہی ادائیگی کی ہے، جتنی تم نے نعمان کو دی ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”نہیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم میری بجائے کسی اور کو گواہ بنا لو، کیا تمہیں یہ بات اچھی نہیں لگے گی کہ وہ سب (یعنی تمہاری اولاد) تمہارے ساتھ ایک جیسا اچھا سلوک کرے؟“ تو انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم ایسا نہ کرو۔“ محامل کہتے ہیں: (روایت میں یہ الفاظ ہیں) ”کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح عطیہ دیا ہے؟“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 2961
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2401، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12823، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2961/1»
«قال ابن حجر: في إسناده ضعف ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 252)»