حدیث نمبر: 2474
نا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، نا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْقُومِسِيُّ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ ، نا عَطَاءٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَيْتَنِي أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ ، فَبَيْنَا نَحْنُ بِالْجِعْرَانَةِ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ فَأَتَاهُ الْوَحْيُ ، فَأَشَارَ إِلَى عُمَرَ أَنْ تَعَالَ ، فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي الْقُبَّةَ ، فَأَتَى رَجُلٌ قَدْ أَحْرَمَ فِي جُبَّتِهِ بِعُمْرَةٍ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ فِي جُبَّتِهِ ؟ ، إِذْ أنزل عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغِطُّ كَذَلِكَ فَسُرِّيَ عَنْهُ ، فَقَالَ : " أَيْنَ الرَّجُلُ الَّذِي سَأَلَنِي آنِفًا ؟ " ، فَأُتِيَ بِالرَّجُلِ ، فَقَالَ : " أَمَّا الْجُبَّةُ فَاخْلَعْهَا ، وَأَمَّا الطِّيبُ فَاغْسِلْهُ ، ثُمَّ أَحْدِثْ إِحْرَامًا " قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : لا أَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا قَالَ : ثُمَّ أَحْدِثْ إِحْرَامًا ، غَيْرُ نُوحِ بْنِ حَبِيبٍ ، وَلا أَحْسَبُهُ مَحْفُوظًا . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین

صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میری یہ خواہش تھی کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی حالت میں دیکھوں، جب آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو، ایک مرتبہ جب ہم ’’جعرانہ‘‘ میں موجود تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں موجود تھے، آپ ایک خیمے میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اشارہ کیا: تم آگے آ جاؤ، میں نے اپنا سر اس خیمے میں داخل کیا، ایک شخص آیا، جس نے جبہ پہن کر عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا اور اس نے خوشبو بھی لگائی ہوئی تھی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ ایسے شخص کے بارے میں ارشاد فرمائیں، جس نے حیے میں حرام کی نیت کر لی ہو۔“ اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خراٹے لینا شروع کیا، اس کے بعد آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی، تو آپ نے دریافت کیا: ”وہ شخص کہاں ہے، جس نے ابھی مجھ سے سوال کیا تھا؟“ اس شخص کو لایا گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جہاں تک حیے کا تعلق ہے، تو اسے اتار دو اور جہاں تک خوشبو کا تعلق ہے، تو اسے دھو لو اور پھر نئے سرے سے احرام باندھو۔“ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے یہ بات بیان کی ہے: میرے علم کے مطابق کسی بھی شخص نے یہ بات نقل نہیں کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو دوبارہ احرام باندھنے کی ہدایت کی، صرف نوح بن حبیب نامی راوی نے اس بات کا تذکرہ کیا ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ الفاظ درست نہیں ہیں، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2474
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1536، 1789، 1847، 4329، 4985، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1180،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1819، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 835، 836، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 9189، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2474، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18231»
«قال ابن عبدالبر: لا خلاف بين أهل العلم بالحديث أنه حديث ثابت صحيح ، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (2 / 249)»