حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ حُذَيْفَةَ شَكَّ ابْنُ عَوْنٍ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : نَتَحَدَّثُ بِحَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، وَكَانَ فِي نَاحِيَةِ الْكُوفَةِ ، قَالَ : قُلْتُ لَوْ أَتَيْتُهُ فَكُنْتُ أَنَا الَّذِي أَسْمَعُهُ مِنْهُ فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَرَدْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا أَسْمَعُهُ مِنْكَ ، قَالَ : فَقَالَ : لَمَّا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَرْتُ حَتَّى كُنْتُ بِأَقْصَى أَرْضِ أَهْلِ الإِسْلامِ ، ثُمَّ قُلْتُ : لآتِيَنَّ هَذَا الرَّجُلَ فَإِنْ كَانَ صَادِقًا فَلأَسْمَعَنَّ مِنْهُ ، فَلَمَّا جِئْتُ اسْتَشْرَفَ لِي النَّاسُ ، فَذَكَرَ لِي الْحَدِيثَ . قَالَ : ثُمَّ قَالَ لِي : " أَتَيْتَ الْحِيرَةَ ؟ " ، قُلْتُ : لا ، وَقَدْ عَلِمْتُ مَكَانَهَا ، قَالَ : " فَتُوشِكُ الظَّعِينَةُ أَنْ تَخْرُجَ مِنْهَا بِغَيْرِ جِوَارٍ حَتَّى تَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ " . قَالَ : فَرَأَيْتُ الظَّعِينَةَ تَخْرُجُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ مُخْتَصَرٌ .محمد بن حذیفہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی حدیث ایک دوسرے کو سنایا کرتے تھے، وہ کوفہ کی ایک کنارے والی آبادی میں رہا کرتے تھے، میں نے یہ سوچا کہ اگر میں ان کے پاس جاؤں اور اگر میں خود ان سے یہ حدیث سن لوں، تو یہ مناسب ہو گا، تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے کہا: آپ کے حوالے سے ایک حدیث مجھ تک پہنچی ہے، میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ آپ سے سن لوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عدی نے فرمایا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا، تو میں فرار ہو کر اسلامی سلطنت کے دور دراز کے حصے میں چلا گیا، پھر میں نے یہ سوچا کہ مجھے ان صاحب کی خدمت میں حاضر ہونا چاہیے، اگر وہ سچے ہوں گے، تو میں ان کی بات مان لوں گا، جب میں (آپ کی خدمت میں) آیا، تو لوگ میرے لیے کھڑے ہوئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: (اس کے بعد انہوں نے مجھے پوری حدیث سنائی، جس میں یہ بیان ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم حیرہ گئے ہو؟“ میں نے عرض کی: ”نہیں! لیکن مجھے اس کی جگہ کا پتہ ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب وہ وقت آئے گا، جب کوئی عورت وہاں سے کسی کی پناہ میں آئے بغیر نکلے گی، یہاں تک کہ (مکہ پہنچ کر) خانہ کعبہ کا طواف کرے گی۔“ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر میں نے ایک عورت کو دیکھا، جو حیرہ سے روانہ ہوئی اور اس نے (مکہ پہنچ کر) خانہ کعبہ کا طواف کیا۔ یہ روایت مختصر ہے۔