حدیث نمبر: 2437
نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ، قَالا : نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ حُذَيْفَةَ قَالَ رَجُلٌ : كُنْتُ أَسْأَلُ النَّاسَ عَنْ حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، وَهُوَ إِلَى جَنْبِي لا أَسْأَلُهُ فَأَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهْتُهُ ، ثُمَّ قُلْتُ : لَوْ أَتَيْتُهُ فَسَمِعْتُ مِنْهُ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقَالَ لِي : " يَا عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ لِي : " فَإِنَّ الظَّعِينَةَ سَتَرْحَلُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِغَيْرِ جِوَارٍ " . مُخْتَصَرٌ ، كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
محمد محی الدین

ابوعبیدہ بن حذیفہ بیان کرتے ہیں: ایک صاحب نے یہ بات بیان کی: میں لوگوں سے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بارے میں دریافت کرتا رہا، وہ میرے پہلو میں موجود تھے، لیکن میں نے ان سے دریافت نہیں کیا، پھر میں ان کے پاس آیا، تو انہوں نے بتایا: اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا، میں آپ کو پسند نہیں کرتا تھا، پھر میں نے سوچا کہ مجھے ان کی خدمت میں جا کر ان کی بات سننی چاہیے، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ نے مجھ سے فرمایا: ”عدی بن حاتم! تم اسلام قبول کر لو، تم سلامت رہو گے۔“ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا: ”عنقریب کوئی عورت ’’حیرہ‘‘ (نامی جگہ) سے روانہ ہو گی، یہاں تک کہ وہ کسی کی پناہ میں آئے بغیر، بیت اللہ کا طواف کرے گی۔“ یہ روایت متصل ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2437
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1413، 1417، 3595، 6023، 6539، 6540، 6563، 7443، 7512، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1016، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2428، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 473، 666، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8677، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2554، 2555، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2344، 2345، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2415 م، 2953 م 2، 2954، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1698، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 185، 1843،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2437، 2438، 2439، 2463، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18535»