سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ وُلُوغِ الْكَلْبِ فِي الْإِنَاءِ باب: : کتے کا برتن میں منہ ڈالنا
حدیث نمبر: 194
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُغْسَلُ ثَلاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا " . تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ ، وَغَيْرُهُ يَرْوِيهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، " فَاغْسِلُوهُ سَبْعًا " ، وَهُوَ الصَّوَابُ .محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”وہ شخص اسے تین مرتبہ دھوئے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) پانچ مرتبہ دھولے یا سات مرتبہ دھولے۔“ اس روایت کو اسماعیل نامی راوی سے نقل کرنے کے حوالے سے عبدالوہاب نامی راوی منفرد ہیں اور یہ راوی ”متروک حدیث“ ہیں۔ دیگر راویوں نے اسماعیل نامی راوی کے حوالے سے اس روایت کو نقل کیا ہے اور اس میں یہی الفاظ ہیں: ”اس کو سات مرتبہ دھو لو۔“ اور یہی روایت درست ہے۔