سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ وُلُوغِ الْكَلْبِ فِي الْإِنَاءِ باب: : کتے کا برتن میں منہ ڈالنا
حدیث نمبر: 191
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، نا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفًا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلابِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا لَهُمْ وَلَهَا ؟ " ، فَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَفِي كَلْبِ الْغَنَمِ ، وَقَالَ : " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ، وَالثَّامِنَةَ عَفِّرُوهُ فِي التُّرَابِ " . صَحِيحٌ.محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو اس سے کیا فائدہ؟“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتے، بکریوں کی حفاظت کے لیے کتے کو پالنے کی اجازت دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھولو اور آٹھویں مرتبہ مٹی کے ساتھ رگڑ لو۔“ یہ حدیث ”صحیح“ ہے۔