سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ عِنْدَ الْبَيْتِ فِي جَمِيعِ الْأَزْمَانِ باب: : بیت اللہ کے پاس کسی بھی وقت میں نفل نماز ادا کی جاسکتی ہے
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ ، ثنا رَجَاءٌ أَبُو سَعِيدٍ ، ثنا مُجَاهِدٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَوْ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، لا تَمْنَعُوا أَحَدًا يَطُوفُ ، فَإِنَّهُ لا صَلاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَلا صَلاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، إِلا بِمَكَّةَ عِنْدَ هَذَا الْبَيْتِ يَطُوفُونَ وَيُصَلُّونَ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے بنو عبد المطلب (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں: اے بنو عبد مناف)، اس بیت اللہ کا طواف کرنے والے (یا اس کے قریب) نماز ادا کرنے والے کسی بھی شخص کو تم نہ روکنا، کیونکہ صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک کوئی نماز نہیں ہوتی اور عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہونے تک کوئی نماز نہیں ہوتی، البتہ مکہ میں اس گھر کے پاس کا حکم مختلف ہے، (یہاں) لوگ (ان اوقات میں) طواف بھی کر سکتے ہیں اور نماز بھی پڑھ سکتے ہیں۔“