سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْقَائِمِ عَلَى صَلَاةِ الْقَاعِدِ وَكَيْفِيَّةِ صَلَاةِ الصَّحِيحِ خَلْفَ الْجَالِسِ باب: : بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے مقابلے میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے والے کی فضیلت، بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے (امام کے پیچھے ) تندرست شخص کا نماز ادا کرنے کا طریقہ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبَّاسِ الْبَغَوِيُّ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ ، ثنا أَبُو عَامِرٍ ، ثنا خَالِدُ بْنُ إِيَاسَ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ جَالِسًا فَلَمَّا انْصَرَفَ وَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ قُلْتُ لَهُمْ : إِنِّي لا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُومَ فَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تُصَلُّوا بِصَلاتِي فَاجْلِسُوا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ ، فَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا ، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا " .ابراہیم بن عبید بیان کرتے ہیں: میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو انہیں اپنے ساتھیوں کو بیٹھ کر نماز پڑھاتے ہوئے پایا، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا، انہوں نے فرمایا: ”میں اصل میں کھڑا نہیں ہو سکتا، جب تم نے میری اقتداء میں نماز پڑھنی ہو، تو بیٹھ کر ادا کرو،“ کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے: ”امام ڈھال ہے، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے، تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا اور جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے، تو تم بھی بیٹھ کر نماز ادا کرنا۔“