سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْقَائِمِ عَلَى صَلَاةِ الْقَاعِدِ وَكَيْفِيَّةِ صَلَاةِ الصَّحِيحِ خَلْفَ الْجَالِسِ باب: : بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے مقابلے میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے والے کی فضیلت، بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے (امام کے پیچھے ) تندرست شخص کا نماز ادا کرنے کا طریقہ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : صُرِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ظَهْرِ فَرَسٍ بِالْمَدِينَةِ عَلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ ، فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ ، فَقَعَدَ فِي بَيْتٍ لِعَائِشَةَ فَأَتَيْنَاهُ نَعُودُهُ ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي قَاعِدًا تَطَوُّعًا فَقُمْنَا خَلْفَهُ ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ يُصَلِّي صَلاةً مَكْتُوبَةً فَقُمْنَا خَلْفَهُ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ ، قَالَ : " ائْتَمُّوا بِالإِمَامِ مَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا ، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا ، وَلا تَفْعَلُوا كَمَا يَفْعَلُ فَارِسُ لِعُظَمَائِهَا " .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں گھوڑے پر سوار تھے، تو کھجور کے تنے کی وجہ سے زخمی ہو گئے، جس کے نتیجے میں آپ کے پاؤں پر چوٹ آئی، آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں قیام پذیر ہوئے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لیے آئے، آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نوافل ادا کرتے ہوئے پایا، ہم نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کی، پھر جب ہم (اگلی مرتبہ) آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ اس وقت فرض نماز ادا کر رہے تھے، ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، تو آپ نے ہمیں اشارہ کیا کہ ہم بیٹھ جائیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی، تو ارشاد فرمایا: ”امام کی پیروی کرو، جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے، تو تم بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو اور جب وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے، تو تم کھڑے ہو کر نماز ادا کرو، تم اس طرح رویہ اختیار نہ کرو، جو اہل فارس اپنے بڑوں کے لیے اختیار کرتے ہیں۔“