سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ الْحَثِّ لِجَارِ الْمَسْجِدِ عَلَى الصَّلَاةِ فِيهِ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ باب: : مسجد کے پڑوس میں (یعنی قریب) رہنے والے شخص کو اس بات کی ترغیب دینا کہ وہ مسجد میں نماز ادا کرے ، البتہ اگر کوئی عذر ہو تو (حکم مختلف ہے) ۔
حدیث نمبر: 1557
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثنا جَرِيرٌ ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ ، عَنْ مَغْرَاءَ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنِ اتِّبَاعِهِ عُذْرٌ " ، قَالُوا : وَمَا الْعُذْرُ ؟ قَالَ : " خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ مِنْهُ الصَّلاةَ الَّتِي صَلَّى " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جو شخص اذان دینے والے کو سنے اور کوئی عذر اس کی بات ماننے (یعنی باجماعت نماز کے لیے جانے) میں رکاوٹ نہ ہو،“ لوگوں نے دریافت کیا: عذر سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”خوف یا بیماری،“ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”تو اس شخص نے (اپنے گھر میں) جو نماز ادا کی ہے، اللہ اس کی وہ نماز قبول نہیں کرے گا۔“