سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ الْحَثِّ لِجَارِ الْمَسْجِدِ عَلَى الصَّلَاةِ فِيهِ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ باب: : مسجد کے پڑوس میں (یعنی قریب) رہنے والے شخص کو اس بات کی ترغیب دینا کہ وہ مسجد میں نماز ادا کرے ، البتہ اگر کوئی عذر ہو تو (حکم مختلف ہے) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، ثنا أَبُو السُّكَيْنِ الطَّائِيُّ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا جُنَيْدُ بْنُ حَكِيمٍ ، ثنا أَبُو السُّكَيْنِ الطَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِكِّينٍ الشَّقَرِيُّ الْمُؤَذِّنُ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُكَيْرٍ الْغَنَوِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : فَقَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا فِي الصَّلاةِ ، فَقَالَ : " مَا خَلَّفَكُمْ عَنِ الصَّلاةِ ؟ " ، قَالُوا : لِحَاءٌ كَانَ بَيْنَنَا ، فَقَالَ : " لا صَلاةَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلا فِي الْمَسْجِدِ " . هَذَا لَفْظُ ابْنِ مَخْلَدٍ ، وَقَالَ أَبُو حَامِدٍ : " لا صَلاةَ لِمَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ ثُمَّ لَمْ يَأْتِ إِلا مِنْ عِلَّةٍ ".سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز (باجماعت) کے دوران کچھ لوگوں کو غیر موجود پایا، تو دریافت کیا: ”وہ لوگ نماز میں کیوں شریک نہیں ہوئے؟“ تو لوگوں نے بتایا: انہیں کچھ کام تھا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”مسجد کے پڑوس میں رہنے والے کی نماز صرف مسجد میں ہوتی ہے۔“ روایت کے یہ الفاظ ابن مخلد کے ہیں، جبکہ ابوحامد نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”جو شخص اذان سنے اور (مسجد میں) نہ آئے، اس کی نماز نہیں ہوتی، البتہ اگر کوئی علت (یعنی عذر) ہو، تو (حکم مختلف ہے)۔“