حدیث نمبر: 1549
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَالِكِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أنا قُدَامَةُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُصَيْنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ يَسَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَآنِي ابْنُ عُمَرَ أُصَلِّي بَعْدَ الْفَجْرِ فَحَصَبَنِي ، وَقَالَ : يَا يَسَارُ ، كَمْ صَلَّيْتَ ؟ قُلْتُ : لا أَدْرِي ، قَالَ : لا دَرَيْتَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نُصَلِّي هَذِهِ الصَّلاةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْنَا تَغَيُّظًا شَدِيدًا ، ثُمَّ قَالَ : " لِيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ أَنْ لا صَلاةَ بَعْدَ الْفَجْرِ إِلا سَجْدَتَيْنِ " .
محمد محی الدین

یسار بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے صبح صادق ہو جانے کے بعد (نفل) نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، تو مجھے کنکریاں مارتے ہوئے فرمایا: ”اے یسار! تم نے کتنی رکعت ادا کی ہیں؟“ میں نے جواب دیا: مجھے یاد نہیں ہے۔ تو انہوں نے فرمایا: ”تمہیں سمجھ بھی نہیں ہے، ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم یہ نماز (یعنی اس وقت میں نوافل) ادا کر رہے تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور ارشاد فرمایا: تمام موجود لوگ غیر موجود افراد تک یہ بات پہنچا دیں: صبح صادق ہو جانے کے بعد (نوافل میں) صرف دو رکعت (سنت) ادا کی جا سکتی ہے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1549
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 1278، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 419، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 235، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 4510، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1549، 1550، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4847»
«قال النوی: هذا الحديث إسناده حسن ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (3 / 286)»