سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ صَلَاةِ النَّافِلَةِ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ باب: : رات اور دن میں نوافل ادا کرنا
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْبَزَّازُ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرَغَ مِنْ صَلاةِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ ، وَيَسْجُدُ سَجْدَةً قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ ، قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلإِقَامَةِ فَيَخْرُجَ مَعَهُ " . وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ فِي قِصَّةِ الْحَدِيثِ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد سے لے کر صبح صادق ہونے تک کے درمیانی وقت میں گیارہ رکعت ادا کیا کرتے تھے، ان میں آپ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے اور ایک رکعت کے ذریعے انہیں طاق کر لیتے تھے، آپ اس میں ایک سجدہ اتنا طویل کرتے تھے کہ جتنی دیر میں کوئی شخص پچاس آیات کی تلاوت کر لیتا ہے، پھر جب موذن فجر کی اذان دے کر فارغ ہوتا اور صبح صادق ہو چکی ہوتی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر دو مختصر رکعات ادا کر لیتے تھے، پھر آپ دائیں پہلو کے بل لیٹ جاتے تھے، یہاں تک کہ موذن آپ کو نماز کے لیے بلانے آتا، تو آپ اس کے ساتھ تشریف لے جاتے۔ مختلف راویوں نے یہ واقعہ الفاظ کی کمی و بیشی کے ساتھ نقل کیا ہے۔