سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ مَنْ كَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ وَحْدَهُ ثُمَّ أَدْرَكَ الْجَمَاعَةَ فَلْيُصَلِّ مَعَهَا باب: : جو شخص صبح کی نماز تنہا ادا کر چکاہو، پھر وہ جماعت کو بھی پالے تو وہ جماعت کے ساتھ بھی نماز ادا کرے ۔
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَأَى رَجُلَيْنِ فِي مُؤَخَّرِ الْقَوْمِ ، قَالَ : فَدَعَا بِهِمَا ، فَجَاءَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا ، فَقَالَ : " مَا لَكُمَا لَمْ تُصَلِّيَا مَعَنَا ؟ " ، فَقَالا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّيْنَا فِي الرِّحَالِ ، قَالَ : " فَلا تَفْعَلا ، إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ جَاءَ إِلَى الإِمَامِ فَلْيُصَلِّ مَعَهُ وَلْيَجْعَلِ الَّتِي صَلَّى فِي بَيْتِهِ نَافِلَةً " . خَالَفَهُ أَصْحَابُ الثَّوْرِيِّ ، وَمَعَهُ أَصْحَابُ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ مِنْهُمْ : شُعْبَةُ ، وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، وَشَرِيكٌ ، وَغَيْلانُ بْنُ جَامِعٍ ، وَأَبُو خَالِدٍ الدَّالانِيُّ ، وَمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَأَبُو عَوَانَةَ ، وَهُشَيْمٌ وَغَيْرُهُمْ . رَوَوْهُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، مثل قَوْلِ وَكِيعٍ ، وَابْنِ مَهْدِيٍّ . وَرَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ ، وَقَالَ : " فَتَكُونُ لَكُمَا نَافِلَةً وَالَّتِي فِي رِحَالِكُمَا فَرِيضَةٌ " .جابر بن یزید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے، تو آپ نے لوگوں کے پیچھے دو آدمیوں کو دیکھا، راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بلوایا، تو وہ دونوں کانپتے ہوئے آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز ادا کیوں نہیں کی؟“ ان دونوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے اپنی رہائش گاہ میں نماز ادا کر لی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، جب کسی شخص نے اپنی رہائش گاہ میں نماز ادا کر لی ہو اور پھر وہ امام کے پاس آئے، تو اسے امام کے ساتھ بھی نماز ادا کر لینی چاہیے اور جو نماز اس نے اپنی رہائش گاہ میں ادا کی تھی، اسے نفل قرار دینا چاہیے۔“