سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ مَنْ كَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ وَحْدَهُ ثُمَّ أَدْرَكَ الْجَمَاعَةَ فَلْيُصَلِّ مَعَهَا باب: : جو شخص صبح کی نماز تنہا ادا کر چکاہو، پھر وہ جماعت کو بھی پالے تو وہ جماعت کے ساتھ بھی نماز ادا کرے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ بِمِنًى فَانْحَرَفَ ، فَرَأَى رَجُلَيْنِ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ ، فَدَعَا بِهِمَا فَجِيءَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا ، فَقَالَ : " مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ ؟ " ، فَقَالا : قَدْ كُنَّا صَلَّيْنَا فِي الرِّحَالِ ، فَقَالَ : " فَلا تَفْعَلا ، إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الصَّلاةَ مَعَ الإِمَامِ فَلْيُصَلِّهَا مَعَهُ فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ " .جابر بن یزید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں فجر کی نماز پڑھائی، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ نے لوگوں کے پیچھے دو آدمیوں کو دیکھا، دونوں کو بلوایا، دونوں لائے گئے، تو وہ کانپ رہے تھے، آپ نے دریافت کیا: ”تم نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا کیوں نہیں کی؟“ ان دونوں نے عرض کی: ہم اپنی رہائش گاہ میں نماز ادا کر چکے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، جب کوئی شخص اپنی رہائش گاہ میں نماز ادا کر چکا ہو اور پھر وہ امام کے ساتھ باجماعت نماز کو بھی پائے، تو وہ امام کی اقتداء میں بھی اس نماز کو ادا کرے، تو یہ اس کے لیے نفل ہو جائے گی۔“