حدیث نمبر: 1534
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ بِمِنًى فَانْحَرَفَ ، فَرَأَى رَجُلَيْنِ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ ، فَدَعَا بِهِمَا فَجِيءَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا ، فَقَالَ : " مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ ؟ " ، فَقَالا : قَدْ كُنَّا صَلَّيْنَا فِي الرِّحَالِ ، فَقَالَ : " فَلا تَفْعَلا ، إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الصَّلاةَ مَعَ الإِمَامِ فَلْيُصَلِّهَا مَعَهُ فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ " .
محمد محی الدین

جابر بن یزید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں فجر کی نماز پڑھائی، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ نے لوگوں کے پیچھے دو آدمیوں کو دیکھا، دونوں کو بلوایا، دونوں لائے گئے، تو وہ کانپ رہے تھے، آپ نے دریافت کیا: ”تم نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا کیوں نہیں کی؟“ ان دونوں نے عرض کی: ہم اپنی رہائش گاہ میں نماز ادا کر چکے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، جب کوئی شخص اپنی رہائش گاہ میں نماز ادا کر چکا ہو اور پھر وہ امام کے ساتھ باجماعت نماز کو بھی پائے، تو وہ امام کی اقتداء میں بھی اس نماز کو ادا کرے، تو یہ اس کے لیے نفل ہو جائے گی۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1534
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1279، 1638، 1713، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1564، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 899، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 857، 1333، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 933، 1258، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 575، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 219، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1407، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3048، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1532، 1533، 1534، 1535، 1536، 1538، 1539، 1540، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 603، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17746»
« قال الشافعی: إسناده مجهول ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 62)»