سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ مَنْ كَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ وَحْدَهُ ثُمَّ أَدْرَكَ الْجَمَاعَةَ فَلْيُصَلِّ مَعَهَا باب: : جو شخص صبح کی نماز تنہا ادا کر چکاہو، پھر وہ جماعت کو بھی پالے تو وہ جماعت کے ساتھ بھی نماز ادا کرے ۔
ثنا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، وعَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالا : نا هُشَيْمٌ ، ثنا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، نا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ وَانْصَرَفَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِي آخِرِ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَهُ ، فَقَالَ : " عَلَيَّ بِهِمَا " ، فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا ، فَقَالَ : " مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا ؟ " ، قَالا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا ، قَالَ : " لا تَفْعَلا ، إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلَّيَا مَعَهُمْ فَإِنَّهَا لَكُمْ نَافِلَةٌ " .جابر بن یزید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے حج میں شریک ہوا، میں نے آپ کی اقتداء میں صبح کی نماز مسجد خیف میں ادا کی، جب آپ نے اپنی نماز کو مکمل کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو وہاں لوگوں کے پیچھے دو آدمی موجود تھے، جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا نہیں کی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ”ان کو میرے پاس لاؤ۔“ ان دونوں کو لایا گیا، تو دونوں کانپ رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز ادا کیوں نہیں کی؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اپنی رہائش گاہ میں نماز ادا کر چکے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، جب تم اپنی رہائش گاہ میں نماز ادا کر چکے ہو، تو پھر تم مسجد میں آؤ، جہاں جماعت کے ساتھ نماز ادا ہو رہی ہو، تو لوگوں کے ساتھ بھی نماز ادا کرو، یہ تمہارے لیے نفل نماز بن جائے گی۔“