حدیث نمبر: 1510
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْقَطَّانُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ ، ثنا شَبَابَةُ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ فَقَرَأَ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ، فَقَالَ : " أَيُّكُمُ الْقَارِئُ ؟ " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا ، فَقَالُ : " لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " . قَالَ شُعْبَةُ : قُلْتُ لِقَتَادَةَ : أَكَرِهَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : لَوْ كَرِهَ ذَلِكَ لَنَهَى عَنْهُ.
محمد محی الدین

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کرتے ہوئے اس میں سورة الاعلیٰ کی تلاوت کی، (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم میں سے کون شخص قراءت کر رہا تھا؟“ ایک شخص نے عرض کی: میں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی سوچ رہا تھا، کوئی شخص درمیان میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔“ شعبہ بیان کرتے ہیں: میں نے قتادہ سے دریافت کیا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسندیدہ قرار دیا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا: اگر آپ اسے ناپسندیدہ سمجھا ہوتے، تو آپ اس سے منع کر دیتے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1510
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 398، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1845، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 916 ، 1743 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 828، 829، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1509، 1510، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 857، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20129»