سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ الْإِمَامِ يَسْبِقُ الْمَأْمُومِينَ بِبَعْضِ الصَّلَاةِ فَيَدْخُلُ مَعَهُمْ مِنْ حِينَ أَدْرَكَهُ وَيَكُونُ أَوَّلَ صَلَاتِهِ باب: : جب امام نماز کا کچھ حصہ مقتدیوں سے پہلے ادا کر چکاہو تو اور مقتدی اسوقت شامل ہو (جب نماز درمیان میں ہو) یا اس کا نماز کے آغاز میں شامل ہونا
حدیث نمبر: 1498
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثنا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَا أَدْرَكْتَ مَعَ الإِمَامِ فَهُوَ أَوَّلُ صَلاتِكَ ، وَاقْضِ مَا سَبَقَكَ بِهِ مِنَ الْقُرْآنِ " . قَالَ : وَحَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، مثل قَوْلِ عَلِيٍّ.محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”جو نماز تم امام کے ساتھ پا لو، تمہاری ابتدائی نماز ہو گی اور جو قراءت پہلے گزر چکی ہو، اس کو تم بعد میں ادا کر لو۔“ سعید بن مسیب کی بھی وہی رائے ہے، جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ہے۔