سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ صِفَةِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ وَاسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ عِنْدَ الصَّلَاةِ عَلَى الدَّابَّةِ باب: : سفر کے دوران نفل نماز ادا کرنے کا طریقہ اور نماز کے وقت سواری پر رہتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ کرنے کا حکم۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا ، وَيَسْجُدُ فَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ لِي : " مَا صَنَعْتَ فِي حَاجَتِكَ ؟ " ، قُلْتُ : صَنَعْتُ كَذَا وَكَذَا ، وَقَالَ : " إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا، جب میں واپس آیا، تو آپ اس وقت اپنی سواری پر موجود تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، لیکن آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا، پھر میں نے آپ کو اشارہ کے ساتھ رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے دیکھا، تو میں ایک طرف ہو کر کھڑا ہو گیا، پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: ”تم نے اپنے کام کا کیا کیا؟“ میں نے عرض کیا: میں نے ایسے ایسے کر لیا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں سلام کا جواب اس لیے نہیں دیا، کیونکہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔“