سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ باب: : سفر کے دوران دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرنا
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا وَكِيعٌ ، وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، وَاللَّفْظُ لِوَكِيعٍ ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ فَسَارَ حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ ، قِيلَ لَهُ : الصَّلاةُ ، فَسَارَ حَتَّى إِذَا كَادَ يَغِيبُ الشَّفَقُ نزل فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى إِذَا غَابَ الشَّفَقُ صَلَّى الْعِشَاءَ ، ثُمَّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَابَتْهُ حَاجَةٌ صَنَعَ هَكَذَا " .نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ان کی اہلیہ صفیہ کی بیماری کی اطلاع ملی، وہ اس وقت سفر کی حالت میں تھے، انہوں نے رفتار تیز کر دی، جب سورج غروب ہو گیا، تو ان سے نماز کے لیے کہا گیا، لیکن وہ چلتے رہے، یہاں تک کہ جب شفق غروب ہونے کے قریب تھی، تو انہوں نے پڑاؤ کیا اور مغرب کی نماز ادا کی، پھر وہ انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ شفق غروب ہو گئی، تو انہوں نے عشاء کی نماز ادا کی، پھر انہوں نے ہمیں یہ بات بتائی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام ہوتا تھا، تو وہ اسی طرح کیا کرتے تھے۔