حدیث نمبر: 1466
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا وَكِيعٌ ، وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، وَاللَّفْظُ لِوَكِيعٍ ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ فَسَارَ حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ ، قِيلَ لَهُ : الصَّلاةُ ، فَسَارَ حَتَّى إِذَا كَادَ يَغِيبُ الشَّفَقُ نزل فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى إِذَا غَابَ الشَّفَقُ صَلَّى الْعِشَاءَ ، ثُمَّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَابَتْهُ حَاجَةٌ صَنَعَ هَكَذَا " .
محمد محی الدین

نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ان کی اہلیہ صفیہ کی بیماری کی اطلاع ملی، وہ اس وقت سفر کی حالت میں تھے، انہوں نے رفتار تیز کر دی، جب سورج غروب ہو گیا، تو ان سے نماز کے لیے کہا گیا، لیکن وہ چلتے رہے، یہاں تک کہ جب شفق غروب ہونے کے قریب تھی، تو انہوں نے پڑاؤ کیا اور مغرب کی نماز ادا کی، پھر وہ انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ شفق غروب ہو گئی، تو انہوں نے عشاء کی نماز ادا کی، پھر انہوں نے ہمیں یہ بات بتائی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام ہوتا تھا، تو وہ اسی طرح کیا کرتے تھے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1466
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1091، 1106، 1109، 1805، 3000، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 703، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 479 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 964، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 587 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1207، 1212، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 555، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1558، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5595، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 628، 697، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1458، 1460، 1461، 1466، 1467، 1468، 1469، 1470، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4558»