حدیث نمبر: 1464
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَلْخِيُّ ، ثنا قُتَيْبَةُ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثنا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى الْعَصْرِ ، حَتَّى يَجْمَعَهَا مَعَ الْعَصْرِ فَيُصَلِّيهِمَا جَمِيعًا ، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ ثُمَّ سَارَ ، وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ ، حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ ، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَاءَ فَصَلاهَا مَعَ الْمَغْرِبِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَهَذَا لَمْ يَرْوِهِ إِلا قُتَيْبَةُ .
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا (سفر کے دوران پڑاؤ سے) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے سے پہلے روانہ ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کو موخر کر دیتے، یہاں تک کہ عصر کے وقت میں ان دونوں نمازوں کو ایک ساتھ ادا کرتے تھے اور جب آپ سورج کے ڈھل جانے کے بعد روانہ ہوتے، تو آپ ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کرتے تھے، پھر روانہ ہوتے تھے، اسی طرح جب آپ مغرب سے پہلے روانہ ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز کو موخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ اسے عشاء کی نماز کے ساتھ ادا کرتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورج غروب ہونے کے بعد روانہ ہوتے، تو پھر آپ عشاء کی نماز جلدی ادا کرتے اور اسے مغرب کے ساتھ ادا کر لیتے تھے۔ امام ابوداؤد نے یہ بات بیان کی ہے: اس روایت کو صرف قتادہ نے نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1464
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 706، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 478 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 966، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1458، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 586 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1576، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1206، 1208، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 553، 554، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1556، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1070، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1462، 1463، 1464، 1465، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 656، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22419»