حدیث نمبر: 1462
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ السُّلَمِيُّ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَعَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَإِنْ تَرَحَّلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَنْزِلَ لِلْعَصْرِ ، وَفِي الْمَغْرِبِ مثل ذَلِكَ إِنْ غَابَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ، فَإِنِ ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَنْزِلَ لِلْعِشَاءِ ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا " .
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روانہ ہونے سے پہلے سورج ڈھل چکا ہوتا، تو آپ ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے سے پہلے روانہ ہو جاتے، تو آپ ظہر کی نماز کو موخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ عصر کی نماز کے لیے پڑاؤ کرتے تھے، اسی طرح مغرب کی نماز ادا کیا کرتے تھے، اگر آپ کے روانہ ہونے سے پہلے سورج غروب ہو جاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے اور اگر آپ سورج غروب ہونے سے پہلے روانہ ہوتے، تو آپ مغرب کی نماز کو موخر کر دیتے تھے، پھر عشاء کے لیے پڑاؤ کرتے تھے اور ان دونوں نمازوں کو ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1462
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 706، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 478 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 966، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1458، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 586 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1576، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1206، 1208، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 553، 554، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1556، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1070، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1462، 1463، 1464، 1465، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 656، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22419»