حدیث نمبر: 1457
حَدَّثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَأَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالا : نا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْعُذْرِيُّ ، بِبَيْرُوتَ ، أَخْبَرَنِي أبِي ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ أَقْبَلَ مِنْ مَكَّةَ وَجَاءَهُ خَبَرُ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ ، فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ ، قَالَ لَهُ إِنْسَانٌ مِنْ أَصْحَابِهِ : الصَّلاةُ ، فَسَكَتَ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ : الصَّلاةُ ، فَسَكَتَ . فَقَالَ لِلَّذِي قَالَ لَهُ الصَّلاةُ : إِنَّهُ لَيَعْلَمُ مِنْ هَذَا عِلْمًا لا أَعْلَمُهُ ، فَسَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَمَا غَابَ الشَّفَقُ سَاعَةً نزل فَأَقَامَ الصَّلاةَ ، وَكَانَ لا يُنَادِي لِشَيْءٍ مِنَ الصَّلاةِ فِي السَّفَرِ ، وَقَالَ النَّيْسَابُورِيُّ : بِشَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ فِي السَّفَرِ ، فَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا جَمَعَ بَيْنَهُمَا ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بَعْدَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ سَاعَةً ، وَكَانَ يُصَلِّي عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ أَيْنَ تَوَجَّهَتْ بِهِ السُّبْحَةُ فِي السَّفَرِ " ، وَيُخْبِرُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ .
محمد محی الدین

نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مکہ تشریف لائے، انہیں ان کی اہلیہ صفیہ بنت ابوعبید کی بیماری کی اطلاع ملی، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سفر تیز کر دیا، جب سورج غروب ہو گیا، تو ان کے ساتھیوں میں سے کسی صاحب نے کہا: نماز کا وقت ہو چکا ہے، لیکن سیدنا عبداللہ خاموش رہے، ان کے جس ساتھی نے انہیں نماز کے لیے کہا تھا، اس نے یہ سوچا کہ ضرور ان کے پاس اس بارے میں کوئی ایسی معلومات ہوں گی، جس سے میں واقف نہیں ہوں، پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ چلتے رہے، یہاں تک کہ جب شفق غروب ہوئی، تو انہوں نے پڑاؤ کیا اور نماز کے لیے اقامت کہی، وہ سفر کے دوران نماز کے لیے اذان نہیں دیا کرتے تھے۔ یہاں پر نیشاپوری راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے، اس کے بعد کے الفاظ راویوں کے متفقہ ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کی، پھر انہوں نے یہ بات بتائی: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیزی سے سفر کرنا ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم شفق غروب ہو جانے کے تھوڑی دیر بعد مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران اپنی سواری کی پشت پر ہی نماز ادا کر لیا کرتے تھے، خواہ سواری کا رخ کسی بھی سمت ہو۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان لوگوں کو بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1457
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5600، 5602، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1457، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 6046، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 3963»