حدیث نمبر: 1443
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنْ كَانَ أَمْرُ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنُكُمْ ، وَإِنْ كَانَ أَمْرُ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ " ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَرَّطْنَا فِي صَلاتِنَا ، فَقَالَ : " لا تَفْرِيطَ فِي النَّوْمِ ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَصَلُّوهَا وَمِنَ الْغَدِ لِوَقْتِهَا " .
محمد محی الدین

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر کوئی تمہارا دنیاوی کام ہو، تو یہ تمہارا معاملہ ہے اور اگر کوئی دینی معاملہ ہو، تو وہ میری طرف آئے گا۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اپنی نماز کے بارے میں تفریط کا شکار ہو جاتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سوئے رہ جانے میں تفریط نہیں ہوتی، تفریط بیداری میں ہوتی ہے، جب ایسی صورت حال ہو جائے، تو اس نماز کو (بیدار ہونے کے بعد) ادا کر لو یا اگلے دن اس کے وقت میں ادا کر لو۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1443
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 595، 7471، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 681، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 409، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1460، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 614، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 437، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 177، 1894، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 698، 3434، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1794، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1442، 1443، 1444، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22982»