حدیث نمبر: 1441
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ثنا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ ، أَوْ قَالَ : فِي سَرِيَّةٍ . فَلَمَّا كَانَ آخِرُ السَّحَرِ عَرَّسْنَا ، فَمَا اسْتَيْقَظْنَا حَتَّى أَيْقَظَنَا حَرُّ الشَّمْسِ ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا يَثِبُ فَزِعًا دَهِشًا ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا فَارْتَحَلْنَا ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ، فَقَضَى الْقَوْمُ حَوَائِجَهُمْ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلالا فَأَذَّنَ فَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَمَرَ فَأَقَامَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ ، فَقُلْنَا : يَا نَبِيُّ اللَّهِ ، أَلا نَقْضِيهُمَا لِوَقْتِهِمَا مِنَ الْغَدِ ؟ فَقَالَ لَهُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الرِّبَا وَيَقْبَلُهُ مِنْكُمْ ؟ " .
محمد محی الدین

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) سریہ میں شرکت کے لیے ایک سفر میں شریک تھے، جب رات کا آخری حصہ ہوا، تو ہم نے پڑاؤ کیا (اور سو گئے)، ہم بیدار نہ ہو سکے، یہاں تک کہ سورج کی تپش نے ہمیں بیدار کیا، ہم لوگ خوف زدہ ہو گئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو انہوں نے ہمیں یہ ہدایت کی کہ ہم وہاں سے روانہ ہو جائیں، پھر ہم نے کچھ سفر کیا، یہاں تک کہ سورج کچھ بلند ہو گیا، تو لوگوں نے قضائے حاجت کی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ اذان دیں، پھر ہم نے دو رکعت ادا کیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے اقامت کہی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی، ہم نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! کیا ہم اسے کل اس کے وقت میں قضاء نہ کریں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”کیا اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو سود سے منع کرے گا، اور خود اسے تم سے قبول کرے گا؟“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1441
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 344، 348، 3571، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 682، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 113، 271، 987، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1301، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 320 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 306، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 443، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 770، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 861، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1437، 1438، 1441، 1445، 1446، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 730، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20189»