سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ الرُّجُوعِ إِلَى الْقُعُودِ قَبْلَ اسْتِتْمَامِ الْقِيَامِ باب: : (بھولنے کی صورت میں) پورا کھڑا ہونے سے پہلے دوبارہ بیٹھ جانا۔
حدیث نمبر: 1419
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَاسْتَتَمَّ قَائِمًا فَلْيَمْضِ وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ، وَإِنْ لَمْ يَسْتَتِمَّ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ وَلا سَهْوَ عَلَيْهِ " .محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کسی شخص کو شک ہو جائے اور وہ رکعت پڑھنے کے بعد (بیٹھنے کی بجائے) کھڑا ہو جائے، تو اگر وہ پورا کھڑا ہو چکا ہو، تو اسی طرح نماز پڑھتا رہے اور بعد میں دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے، لیکن اگر وہ پورا کھڑا نہ ہوا ہو، تو اسے بیٹھ جانا چاہیے، اب اس پر سجدہ سہو کرنا لازم نہیں ہو گا۔“