سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ: لَيْسَ عَلَى الْمُقْتَدِي سَهْوٌ وَعَلَيْهِ سَهْوُ الْإِمَامِ باب: : مقتدی پر سہو کرنا لازم نہیں ہوگا لیکن امام کے سہو (پر سجدہ کرنا) اس پر لازم ہوگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عُمَرَ نَتَذَاكَرُ الصَّلاةَ فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، فَقَالَ : أَلا أُخْبِرُكُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا شَكَكْتَ فِي النُّقْصَانِ فَصَلِّ حَتَّى تَشُكَّ فِي الزِّيَادَةِ " .عبیداللہ بن عبداللہ (سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان) نقل کرتے ہیں: ایک دفعہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا، ہم نماز کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے، اسی دوران سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تشریف لائے، انہوں نے بتایا: کیا میں آپ کو وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے؟ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب تمہیں نماز کے دوران کسی کمی کے بارے میں شک ہو، تو تم نماز ادا کرتے رہو، یہاں تک کہ وہ شک اضافے کے بارے میں ہو جائے۔“