سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ: لَيْسَ عَلَى الْمُقْتَدِي سَهْوٌ وَعَلَيْهِ سَهْوُ الْإِمَامِ باب: : مقتدی پر سہو کرنا لازم نہیں ہوگا لیکن امام کے سہو (پر سجدہ کرنا) اس پر لازم ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ هَارُونَ بْنِ رُسْتُمَ الْسَقْطِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو يَحْيَى الْعَطَّارُ ، ثنا شَبَابَةُ ، ثنا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ الْمَدِينِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى مَنْ خَلْفَ الإِمَامِ سَهْوٌ ، فَإِنْ سَهَا الإِمَامُ فَعَلَيْهِ وَعَلَى مَنْ خَلْفَهُ السَّهْوُ ، وَإِنْ سَهَا مَنْ خَلْفَ الإِمَامِ فَلَيْسَ عَلَيْهِ سَهْوٌ وَالإِمَامُ كَافِيهِ " .سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے حوالے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص امام کی اقتداء میں ہو (اس کی کسی اپنی غلطی کی وجہ سے) اس پر سجدہ سہو کرنا لازم نہیں ہو گا، لیکن اگر امام سے کوئی غلطی ہو جائے، تو امام پر بھی سجدہ سہو کرنا لازم ہو گا اور اس کی اقتداء میں نماز ادا کرنے والوں پر بھی لازم ہو گا، لیکن اگر امام کی اقتداء میں نماز ادا کرنے والے سے کوئی غلطی ہوتی ہے، تو اب اس پر سجدہ سہو لازم نہیں ہو گا، بلکہ امام اس کے لیے کافی ہو گا۔“