سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ الْبِنَاءِ عَلَى غَالِبِ الظَّنِّ باب: : غالب گمان پر بنیاد رکھنا
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ : فَلا أَدْرِي أَزَادَ أَمْ نَقَصَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ ؟ قَالَ : " لا ، وَمَا ذَلِكَ ؟ " ، قَالُوا : صَلَّيْتَ كَذَا ، فَثَنَى رِجْلَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ أَنْبَأْتُكُمُوهُ وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي ، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ ، ثُمَّ يُتِمُّ عَلَيْهِ ، ثُمَّ يُسَلِّمُ ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ " .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی، اس روایت کے راوی ابراہیم بیان کرتے ہیں: مجھے یہ نہیں پتہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نماز میں کسی اضافے کا ذکر کیا گیا ہے یا کسی کمی کا ذکر کیا گیا ہے۔ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، تو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ! کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، کیوں کیا ہوا؟“ لوگوں نے عرض کیا: آپ نے اس طرح نماز ادا کی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ٹانگیں سیدھی کیں، اپنا رخ قبلے کی طرف کیا اور دو مرتبہ سجدہ سہو کر کے سلام پھیر دیا، جب آپ نے سلام پھیر دیا، تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہوتا، تو میں بتا دیتا، میں بھی انسان ہوں، میں بھی اسی طرح بھول جاتا ہوں، جس طرح تم لوگ بھول جاتے ہو، تو جب میں کوئی چیز بھول جاؤں، تو مجھے یاد کروا دیا کرو اور جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے، تو وہ درست صورت کے بارے میں کوشش کرے، پھر اسی حساب سے نماز کو مکمل کرے، پھر سلام پھیرے اور اس کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کرے۔“