حدیث نمبر: 1404
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، ، قَالُوا : ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ، ثنا عَمِّي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثنا أبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ سَلَمَةَ الأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الزُّرَقِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ خَرَجَ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسْجِدِ لَهُ حُصَاصٌ ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ رَجَعَ ، فَإِذَا أَقَامَ الْمُؤَذِّنُ الصَّلاةَ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ وَلَهُ ضُرَاطٌ ، فَإِذَا سَكَتَ رَجَعَ حَتَّى يَأْتِي الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ فِي صَلاتِهِ ، فَيَدْخُلُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نَفْسِهِ لا يَدْرِي أَزَادَ فِي صَلاتِهِ أَمْ نَقَصَ ، فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ يُسَلِّمُ " .
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب موذن اذان دیتا ہے، تو شیطان مسجد سے نکلتا ہے، اس کی ہوا خارج ہو رہی ہوتی ہے، جب موذن خاموش ہوتا ہے، تو شیطان واپس آ جاتا ہے، پھر جب موذن اقامت کہتا ہے، تو شیطان پھر مسجد سے نکل جاتا ہے اور اس کی ہوا خارج ہو رہی ہوتی ہے، پھر جب موذن خاموش ہو جاتا ہے، تو وہ واپس آ جاتا ہے، وہ مسلمان شخص کے پاس اس کی نماز کے دوران آتا ہے اور اس کے ذہن میں طرح طرح کے خیالات پیدا کرتا ہے، جس کے بعد اسے یہ یاد نہیں رہتا کہ اس نے نماز میں اضافہ کر دیا ہے یا کمی کر دی ہے، جب کسی شخص کو اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑے، تو جب وہ بیٹھا ہوا ہو (یعنی تشہد پڑھنے کے دوران)، وہ دو مرتبہ سجدہ سہو کرے، یہ وہ سلام پھیرنے سے پہلے کرے اور پھر سلام پھیر دے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1404
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 608، 1222، 1231، 1232، 3285، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 389، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 223 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 392، 1020، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 16، 1662، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 669 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 516، 1030، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 397، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1240، 1535، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1216، 1217، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1403، 1404، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7406، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 977، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 5958»
«قال ابن حجر: إسناده قوي ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (3 / 124)»